بنگلورو،12؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک کی 15ویں اسمبلی کے انتخابات کے لئے 58302 پولنگ مراکز قائم کئے گئے تھے جن میں سے 12000 حساس اور 21 ہزار 464 مراکز کو کم حساس مانتے ہوئے پولنگ مراکز کے باہر نیم فوجی دستوں کے جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔
ریاست کی سرحدوں پر چوکسی بڑھا دی گئی تھی۔ریاست میں غیرجانبدارانہ اور شفاف انتخابات کرانے کی غرض سے سیکورٹی کے لئے چپے چپے پر پولس اور دیگر فورسز کے جوانوں اورافسران کو ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کے لئے کئی دیگرریاستوں سے بھی پولس فورسز طلب کی گئی ہیں اوربڑی تعداد میں ایس ایس بی اور آئی ٹی بی پی اور دیگر نیم فوجی دستوں کے جوانوں کو تعینات تھے۔
کرناٹک کی ڈائریکٹرجنرل آف پولس نیل منی راجو کے مطابق اسمبلی کی 222 سیٹوں پر غیرجانبدارانہ پولنگ کو یقینی بنانے کے لئے سیکورٹی بندوبست کو چست درست بنانے کی غرض سے ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ سیکورٹی جوانوں کو تعینات کیا تھا ۔ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے تحت صبح 7 بجے سے پولنگ شروع ہوئی۔ 224 سیٹوں میں سے 222 سیٹوں پر ہو رہے پولنگ میں ۷۰؍فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائےدہی کا استعمال کیا۔الیکشن کمیشن کے برانڈ ایمبسیڈر راہل دراوڑ، سابق کرکٹر انل کمبلے ،سابق وزیراعظم دیوے گوڑا، وزرا راما لنگاریڈی، ایچ کے پاٹل ان رائے دہندوں میں شامل تھے جنہوں نے پہلے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔
سداگنگا مٹھ کے شیواکمارا سوامی تمکور، جن کی عمر111سال ہے، نے بھی ووٹ ڈالا۔ میسورو کے شاہی خاندان ید ھ ویر ۔کرشنا دتا چامراج واڈیار، فلم اداکارسروجا دیوی ،لیلاوتی ،جگیش نے بھی پہلے ووٹ ڈالنے والوں میں شامل تھے۔کوڈوگو ضلع میں ایک دلہن شادی کے فورا بعد اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کے لئے آئی ۔لنگایت کی مہادیوی جو لنگایت طبقہ کو علاحدہ ذات کا درجہ دینے کے لئے چلائی گئی تحریک کے روح روا تھے وہیل چیر پر آئے اور چامراج نگر میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔
ایک المناک حادثہ میں ایک 70سالہ شخص ووٹنگ کے لئےجانے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا۔گلابی رنگ کے مراکز رائے دہی نے ریاست بھر میں رائے دہندوں کو راغب کیا۔ابھی تک بی جے پی کے وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار بی ایس یدی یورپا، مرکزی وزیر سدانند گوڑا، سابق وزیر اعظم اور جے ڈی ایس کے صدر ایچ ڈی دیوے گوڑا اور کانگریس رنما کے جے جارج سمیت متعدد قدآور رہنما اپنا ووٹ کا استعمال کیا۔راہل گاندھی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلی بار ووٹ کر رہے نوجوان ووٹروں کا خیر مقدم کرتا ہوں۔
قبل ازیں انہوں نے کانگریس کارکنان سے ان لوگوں کی مدد کرنے کی اپیل کی جو بھاری بارش سے متاثر ہوئے ہیں۔وہیں ووٹنگ کے عمل کو مکمل ہونے کے بعد ایگزٹ پول کا دور شروع ہوگیا ہے۔ انڈیا ٹوڈے – ایکسس مائی انڈیا کے ایگزٹ پول سروے میں کانگریس کو 39 فیصد ووٹ ملنے کے آثار ظاہر کیے گئے ہیں جب کہ بی جے پی کو 35 فیصد ووٹ ملنے کے امکانات ہیں۔ مختلف ایگزٹ پول میں کنگ میکر کے طور پر ابھرنے والی جے ڈی ایس کو 17 فیصد ووٹ ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
ٹائمز ناؤ اور وی ایم آر کے ایگزٹ پول میں بھی کانگریس سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ لیکن اس ایگزٹ پول میں کسی کو بھی حکومت بنانے والا نمبر حاصل نہیں ہوا ہے۔ یہاں بھی جے ڈی ایس کنگ میکر نظر آ رہی ہے۔ کانگریس کو جہاں 90 سے 103 سیٹیں ملتی ہوئی نظر آ رہی ہیں وہیں بی جے پی کو 80 سے 93 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ جے ڈی ایس کو 31 سے 39 سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔ دیگر کو 2 سے 4 سیٹیں مل سکتی ہیں۔
کرناٹک اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ ختم ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے جو اعداد و شمار پیش کیا ہے اس کے مطابق مجموعی طور پر 70 فیصد ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔اے بی پی نیوز کے ایگزٹ پول میں جے ڈی ایس کنگ میکر کی شکل میں ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ اس نے کانگریس کو 87 سے 99، بی جے پی کو 97 سے 109 اور جے ڈی ایس کو 21 سے 30 سیٹ ملتا ہوا بتایا ہے۔ دیگر کو 1 سے 8 سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔
انڈیا ٹی وی اور نیوز ایکس کے ایگزٹ پول میں بی جے پی کو سب سے بڑی پارٹی کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی حکومت تشکیل دینے لائق سیٹ وہ حاصل نہیں کر رہی ہے۔ اس ایگزٹ پول میں بی جے پی کو 102 سے 110 سیٹ، کانگریس کو 72 سے 78 سیٹ، جے ڈی ایس کو 35 سے 39 سیٹ اور دیگر کو 3 سے 5 سیٹ ملتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ایگزٹ پول میں کانگریس کو سبقت حاصل ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور اکثر ایگزٹ پول میں کانگریس بہ آسانی حکومت بناتی ہوئی معلوم پڑ رہی ہے۔
ایکسس اور انڈیا ٹوڈے کے ایگزٹ پول میں کانگریس کو 106 سے 118 سیٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس ایگزٹ پول میں بی جے پی کو 79 سے 92، جے ڈی ایس کو 22 سے 30 اور دیگر کو 1 سے 4 سیٹیں ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔کرناٹک کے ہبلی میں پولنگ اسٹیشن 185 پر ووٹرس شیلٹر میں کھڑے ہوئے دیکھے گئے۔ ہبلی میں زبردست بارش کی وجہ سے ووٹنگ متاثر ہوا ہے۔ چامنڈیشوری حلقہ انتخاب میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد وزیر اعلیٰ سدا رمیا نے دعویٰ کیا کہ کانگریس مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ جیت کے لئے پر اعتماد ہیں۔سدارامیا نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی، کھلے عوام جے ڈی ایس کی حمایت کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’جے ڈی ایس نے بڑے پیمانہ پررقم تقسیم کی ہے، ان کے امیدوار کا کہنا ہے کہ وہ سوسائٹی کا سکریٹری ہے۔اس کے پاس سے اتنی رقم کہاں سے آئی؟ بی جے پی کھلے عام جے ڈی ایس کی حمایت کر رہی ہے۔‘‘یدی یورپا کے جیت کے دعوے پر سدارمیا نے کہا کہ ان کا ذہنی توازن بگڑا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ یدی یورپا نے ووٹنگ کے وقت دعویٰ کیا تھا کہ بی جے پی 150 سے زیادہ سیٹیں جیتے گی اور 17 تاریخ کو وہ وزیر اعلیٰ عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری اشوک گہلوت نے وزیر اعظم مودی پر کرناٹک کے ووٹروں پر اثر ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ گہلوت نے کہا، ’’کرناٹک میں مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہے۔ اس بیچ وزیر اعظم مودی نے نیپال کے مندروں میں پوجا کرنے کا منصوبہ بنایا، تاکہ کرناٹک کے ووٹروں پر اثر ڈالا جا سکے۔
اس طرح کا چلن جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ آخر انہوں نے نیپال کے مندروں میں پوجا کے لئے آج کا ہی دن کیوں چنا؟‘‘وہیں ہندوستان کے معروف کرکٹ کھلاڑی انل کمبلے نے بنگلورو میں اپنے خاندان کے ساتھ حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ بعد میں انہوں نے ٹوئٹر پر اپنی تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کیں۔کانگریس کے رہنما ملکارجن کھڑگے نے کہا ’’ہم اعتماد سے پُر ہیں۔ 150 کو بھول جائیے، بی جے پی کو زیادہ سے زیادہ 60-70 سیٹیں ہی مل پائیں گی۔ حکومت سازی کا ان کا دعویٰ محض ایک خواب ہے۔‘‘تشہیر کے ذریعے ووٹروں کو مائل کرنے کی کوشش کے بعد آج متعدد رہنما نے پوجا پاٹھ کر کے اپنے جیتنے کی دعائیں کی ۔ جے ڈی ایس کے رہنما ایچ ڈی کماراسوامی نے الصبح اپنی اہلیہ کے ساتھ راج راجیشوری مندر میں پوجا کی اس کے بعد انہوں نے آدی چن چن گری مٹھ کے مہاسوامی سے ملاقات کی۔وزیر اعلیٰ سد رمیا کے سامنے الیکشن کے میدان میں اترنے والے بی جے پی کے امیدوار بی سریمالو نے اپنا ووٹ ڈالنے سے قبل گئو پوجا کی۔دریں اثنا کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدا رمیا نے ٹوئٹ کرکے کرناٹک کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔